امام صادق عليہ السلام كي مظلوميت
منصور عباسي كے مظالم
ايك دن منصور نے اپنے وزير ربيع سے كہا كہ امام صادق عليہ السلام كو دربار ميں بلاؤ ۔
ربيع نے منصور كے حكم كے مطابق امام عليہ السلام كو دربار ميں بلوايا، منصور نے بہت ہي غيض و غضب كے عالم ميں امام كي جانب رخ كر كے كہا : خدا مجھے قتل كر دے اگر ميں تم كو قتل نہ كروں ! تم ہماري حكومت كے عيوب لوگوں كے سامنے بيان كرتے ہو ؟
امام عليہ السلام نے جواب ديا : جس نے تم كو يہ خبر دي ہے وہ جھوٹا ہے ۔
منصور عباسي كے مظالم
ايك دن منصور نے اپنے وزير ربيع سے كہا كہ امام صادق عليہ السلام كو دربار ميں بلاؤ ۔
ربيع نے منصور كے حكم كے مطابق امام عليہ السلام كو دربار ميں بلوايا، منصور نے بہت ہي غيض و غضب كے عالم ميں امام كي جانب رخ كر كے كہا : خدا مجھے قتل كر دے اگر ميں تم كو قتل نہ كروں ! تم ہماري حكومت كے عيوب لوگوں كے سامنے بيان كرتے ہو ؟
امام عليہ السلام نے جواب ديا : جس نے تم كو يہ خبر دي ہے وہ جھوٹا ہے ۔
ربيع كہتا ہے : ہم نے امام صادق عليہ السلام كو ديكھا كہ آپ زير لب كسي ذكر ميں مشغول ہيں ، جس وقت آپ منصور كے پاس بيٹھے منصور كا غصہ آہستہ آہستہ كم ہوتا گيا ۔
جب آپ (ع) منصور كے پاس سے اٹھ كر جانے لگے تو ميں آپ كے پيچھے پيچھے گيا اور امام سے سوال كيا كہ آپ زير لب كس ذكر ميں مشغول تھے ؟ تو آپ نے فرمايا : ميرے لبوں پر ميرے جد حسين عليہ السلام كي دعا تھي : يا عُدَّتي عِندَ شِدَّتي وَيا غَوثِي عِندَ كُربَتي اَحرِسنِي بعَينِكَ الَّتي لا تَنامُ وَاكَنِفنِي برُكنِكَ الذَّي لايُرام ؛
اے مشكلوں ميں ميري اميد ، اے پريشانيوں ميں ميرے مددگار ،اپني ان آنكھوں كے ذريعہ ميري حفاظت فرما جو كبھي سوتي نہيں ہے اور مجھے اپنے ركن كے زير سايہ قرار دے ۔
امام صادق عليہ السلام كے گھر پر آگ
مفضل بن عمر كہتا ہے : منصور دوانيقي نے مدينہ و مكہ كے گورنر حسن بن زيد كو پيغام بھيجا كہ جعفر بن محمد (امام صادق عليہ السلام ) كے گھر كو آگ لگا دو ۔ اس نے منصور كے حكم پر امام صادق عليہ السلام كے گھر كو آگ لگا ديا ،امام صادق عليہ السلام جلتے ہوئے گھر كے اندر تشريف لے گئے اور فرماتے تھے: اَنَا بنُ اَعراقِ الثَّري اَنا بنُ اِبراهِيمَ خَليلِ اللهِ ؛ ميں اس كا فرزند ہوں جس كي جڑيں زمين ميں پھيلي ہوئي ہيں ،ميں ابراھيم خيليل (ع) كا فرزند ہوں ، جس كے لئے خداوند عالم نے آتش نمرودي كو گلزار بنا ديا ۔
امام صادق عليہ السلام كي شہادت
روز بہ روز امام كي بڑھتي ہوئي عظمت و شہرت كو منصور برداشت نہ كر سكا اور اس نے مدينہ كے والي كو حكم ديا كہ امام كو زہر آلود انگور كے ذريعہ قتل كر دے ۔
امام كي شہادت كے بعد منصور نے گريہ و زاري شروع كر ديا تاكہ لوگوں كو اس كي پليد نيت كا علم نہ ہونے پائے ۔
جب كہ اس بات ميں كوئي شك نہيں كہ منصور نے امام صادق عليہ السلام كو شہيد كروايا چونكہ اس نے كئي بار امام كو قتل كي دھمكي دي تھي اور كہتا تھا كہ جعفر بن محمد ہمارے گلے ميں پھنسي ہوئي ہڈي كے مانند ہيں ۔