سوانح حيات
دور حاضر كے عظيم مفكر اور نامور فقيہ حضرت آيۃ اللہ العظميٰ شيخ لطف اللہ صافي گلپايگاني كي ولادت ۱۳۳۷ھ ق ميں ايران كے شہر گلپايگان ميں ہويي۔
والدين
آپ كے والد آيۃ اللہ آخوند ملا محمد جواد صافي مرحوم (متولد۱۲۸۷ھ ق)تھے جو فقہ و اصول ،علم اخلاق و علم حديث كے ماہر محقق اور مدرس ہونے كے ساتھ ساتھ فن كتابت و شاعري ميں بھي مہارت ركھتے تھے۔زہد ،تقويٰ ،اہل بيت اطہار عليہم السلام سے والہانہ لگاؤ اور علمي و اخلاقي فضيلت كے باعث گلپائگان كے مومنين آپ كے شيفتہ اور فرمانبردار تھے۔
آپ كي پوري زندگي امر بالمعروف ،نہي از منكر ،منحرف افكار سے مقابلہ اور ظالم و جابر حكام كي سخت مخالفت كرتے ہوئے گزري۔اسي غيرت ديني اور جرأت كي وجہ سے حكام وقت اور ظالم افراد آپ سے خوفزدہ رہتے تھے۔
علم و عمل كا يہ آفتاب ۲۷رجب ۱۳۷۸ ھ ميں غروب ہوگيا۔
آپ كي والدہ فاطمہ خانم حضرت آيۃ اللہ آخوند ملا محمد علي كي بيٹي تھيں۔آپ عاشق اہل بيت عليہم السلام اور نہايت بافضيلت خاتون تھيں۔
مرحومہ كي معنوي اور اخلاقي فضيلتوں ميں آپ كا زہد ،تقويٰ ،عبادت گزاري،شوہر كي خدمت اور بچوں كي ديني تربيت كے ساتھ ساتھ خداوند كي بارگاہ ميں راز و نياز اور نماز شب كي پابندي كو ذكر كيا جا سكتا ہے۔
تعليم
آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے نوجواني ميں حوزہ كي علمي و معنوي فضا ميں قدم ركھا اور حوزہ كے پاك ،مقدس اور بزرگ اساتيذكي شاگردي اختيار كي ۔
شہر گلپائگان ميں عربي ادب كے دروس كا آغاز جليل القدر عالم ملا ابو القاسم (مشہور بہ قطب)كے پاس كيا اور وہيں پر حوزہ كے دروس سطح كي تعليم حاصل كي اور انھيں ايام ميں مختلف اسلامي علوم كي بہت سي كتابيں اپنے پدر بزرگوار كے پاس پڑھتے رہے۔
اس كے بعد آپ بچپن اورنوجواني كي حسين يادگار ،مہربان والدين كا ساتھ چھوڑ كر قم كي جانب ہجرت كر گئےتاكہ وہاں پر بزرگ اساتيد كي خدمت ميں زانوئے ادب تہہ كر كے ديني تعليم و تحقيق كو ادامہ دے سكيں۔
كچھ سالوں بعد نجف اشرف تشريف لے گئے اور وہاں پر بھي ايك سال تك بزرگ مراجع كرام سے كسب فيض كيا ۔
آپ اپني غير معمولي صلاحيت ،فہم و شعور اور تعليم ميں محنت كي وجہ سے ہميشہ بزرگ اساتيد كي توجہ كا مركز بنے رہے ۔آپ ايك سال بعد دوبارہ قم واپس آ گئےاور پھر ۱۵ سال تك مرجع عاليقدر آيۃ اللہ العظميٰ بروجردي طاب ثراہ كے درس و بحث ،علم و اخلاق سے مستفيض ہوتے رہے،ساتھ ہي ساتھ آپ ان كے خاص صلاح كار اور دفتر استفتاآت كے ركن تھے ۔امام مہدي (عج)كے متعلق ايك عظيم كتاب (منتخب الاثر)جس كا اردو ترجمہ (جمال منتظر) كے نام سے شائع ہو چكا ہے ،كي تحرير كے بعد آپ كي علمي صلاحيتوں كو ديكھتے ہوئے آيۃاللہ العظميٰ بروجردي طاب ثراہ نے علمي سوالوں كاجواب دينے كي ذمہ داري آپ كو سونپ دي۔
حوزہ علميہ قم ميں آپ كے بزرگ اساتيذ ميں آيۃ اللہ العظميٰ سيد محمد تقي خوانساري،آيۃ اللہ حجت ،آيۃ اللہ صدر اور حوزہ علميہ نجف اشرف ميں آيۃ اللہ شيخ محمد كاظم شيرازي،آيۃ اللہ سيد جمال الدين گلپائگاني اور آيۃ اللہ شيخ محمد علي كاظمي رضوان اللہ عليھم كے نام سر فہرست ہيں ۔
آية الله العظميٰ صافي گلپائگاني كي خصوصيات
تقويٰ ،زہد ،اخلاص،قناعت،توكل، صاف گوئي،امر بالمعروف اور نہي ازمنكر آپ كے روحاني اور اخلاقي خصوصيات ہيں
آپ كا وجود اہل بيت اطہار عليھم السلام كي محبتوں سے سرشار ہے،آپ ہر نماز كے بعد دعائے عہد كي تلاوت فرماتے ہيں اور جمعہ كو عصر كے وقت حضرت مہدي (عج)كے عاشقوں كے درميان مسجد مقدس جمكران ميں حاضري ديتے ہيں۔
تحقيق و تدريس اور فقہ و اصول اور علم حديث و تفسير جيسے مختلف اسلامي علوم ميں مہارت آپ كي علمي خصوصيات ميں سے ہيں ۔اور اب تك مختلف علمي موضوعات پر ۸۰ كے قريب كتابيں فارسي اور عربي زبان ميں آپ كے قلم سے تحرير كي جا چكي ہيں جن ميں بعض كا ترجمہ بھي دوسري زبانوں ميں ہو چكا ہے۔
آپ اپني انھيں خصوصيتوں اور علمي صلاحيتوں كي وجہ سے حوزہ علميہ قم كے ممتاز علماء كي فہرست ميں شمار كئے گئے اور آيۃ اللہ جمال الدين گلپائگاني ،آيۃ اللہ العظميٰ بروجري اور آيۃ اللہ العظمي سيد محمد رضا گلپائگاني رضوان اللہ عليہم اور ديگر بزرگ مراجع كي نظر ميں مورد احترام و تكريم قرار پائے۔۴۵ سال قبل آيۃ اللہ سيد جمال الدين گلپائگاني(رہ) نے آپ كو سند اجتھاد كا نوشتہ عنايت فرمايا۔
آپ ايك مدت تك آيۃ اللہ العظميٰ بروجردي كي جانب سے درس رسائل و مكاسب اور درس خارج كا امتحان لينے كے لئے منصوب تھے ،اس زمانے كے بہت سے مجتہدين اور علماء نے آپ كے پاس امتحان ديا ہے ۔
عربي ادب اور تاريخ اسلام ميں آپ كا مطالعہ بہت ہي وسيع ہے اور شاعري ميں بھي آپ كو پوري مہارت حاصل ہے ۔
آپ اپني تمام تر مصروفيات كے باوجود عالم اسلام كي خبروں كو سنتے ہيں اور عالم اسلام كے مسائل پر دقيق نظر ركھتے ہيں۔ تاريخي اور سياسي مطالعات كي بنا پر عالم اسلام كو پيش آنے والے مسائل كا بہترين تجزيہ و تحليل فرماتے ہيں۔گويا آپ زمانے كے مسائل سے آگاہ حديث (العالم بزمانہ لا تھجم عليہ اللوابس )كے مصداق كامل ہيں۔
اسلامي انقلاب كي كاميابي كے بعد آپ امام خميني(رہ)كي جانب سے شوراي نگہبان (فقہاء كي وہ كميٹي جو حكومت كے كاموں پر نظارت ركھتي ہے)كے ممبر قرار پائے اور آٹھ سال تك اس كميٹي كے سكريٹري كےعہدے پر فائز رہ كر اسلامي جمہوريہ ايران كے مقدس نظام اور لوگوں كي خدمت نيز حريم اسلام و قرآن سے دفاع كرتے رہے۔
حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني نے دو دہائي تك مرجعيت كے تمام شرائط ركھنے كے باوجود اپني مرجعيت كا اعلان نہيں فرمايا۔ليكن جب آيۃ اللہ العظميٰ سيد محمد رضا گلپائگاني طاب ثراہ كي وفات كے بعد لوگوں كا اصرار بڑھا تو آپ نے اس منصب كو قبول فرمايا۔اور آج آپ كا شمار حوزہ علميہ قم كے عظيم مراجع ميں ہوتاہے اور آپ حوزہ علميہ كے ستون سمجھے جاتے ہيں۔