امام محمد باقر عليہ السلام زندان ہشام ميں
ہشام كے حكم سے امام كو دربار ميں داخل ہونے كي اجازت دي گئي ،حضرت دربار ميں داخل ہوئے اور ہاتھوں سے اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : السلام عليكم ،تمام درباريوں كو سلام كيا ۔
ہشام نے ديكھا كہ امام نے اسے خصوصي سلام نہيں كيا اور اس كي اجازت كے بغير بيٹھ گئے ، اسے اور غصہ آيا اور كہنے لگا : ہميشہ تمہارے خاندان كا ايك آدمي مسلمانوں كے درميان اختلاف پيدا كرتا ہے اور لوگوں كو اپني بيعت كي دعوت ديتا ہے اور خود كو امام سمجھتا ہے ، اس طرح اس نے امام كي سرزنش شروع كي ۔
جب وہ خاموش ہوا تو تمام درباريوں نے پہلے سے طے سازش كے تحت آنحضرت كي سرزنش شروع كر دي ، جب وہ سب خاموش ہو گئے تو امام كھڑے ہوئے اور فرمايا : اے لوگو! كدھر جا رہے ہو ،تمہيں كہاں لے جايا جا رہا ہے ،خداوند عالم نے تم سے پہلے والوں كو ہمارے ذريعہ ہدايت بخشي اور تمہارے بعد والوں كي ہدايت بھي ہمارے ہاتھوں ہوگي ۔ تم اس چند روزہ بادشاہي سے وابستہ ہو جبكہ ابدي بادشاہت ہمارا حق ہے جيسا كہ خداوند عالم فرماتا ہے : والعاقبۃ للمتقين ،"بہترين انجام متقين كے لئے ہے " (سورہ قصص ،آيت/ ۸۳ )
اس واقعے كے بعد ہشام كے حكم سے امام عليہ السلام كو قيدخانہ ميں ڈال ديا گيا ليكن زيادہ دن نہ گزرے تھے كہ آنحضرت نے تمام قيديوں كو اپنا محب بنا ليا ، داروغہ زندان نے يہ خبر ہشام كو دي تو ہشام نے مجبور ہو كر امام كو آزاد كرنے كا حكم دے ديا ليكن اس بات كي تاكيد كي كہ آپ پر كڑي نظر ركھي جائے ۔
سر انجام ہشام نے اپني خفت اور ذلت كا انتقام لينے كے لئے آپ كے قتل كي سازش رچي اور والي مدينہ كو لكھا كہ امام كو زہر دغا كے ذريعہ شہيد كر دے ليكن اس سے پہلے ہي ہشام واصل جہنم ہوگيا ۔ معتبر روايات كے مطابق آپ كي شہادت ۷ ذي الحجہ سن ۱۱۴ ميں واقع ہوئي اور آپ كو آپ كے والد بزرگوار امام سجاد عليہ السلام كے پہلو ميں دفن كيا گيا ۔
اقتباس از كتاب سوگنامہ آل محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم