قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

ايمان ، اخلاق اور معنويات بشريت كے لئے فخر كا باعث ہيں : آيۃاللہ العظميٰ صافي گلپائگاني

قم ۔ ۲۰ جنوري ۱۰ بروز چہارشنبہ صوبہ قم و تھران كے اليكٹريك سٹي شعبہ كے چند مدير اور انجينيروں نے آيۃ اللہ العظميٰ صافي سے ملاقات كي ،
اس ملاقات كے دوران آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے ان كي خدمات كي قدر داني كرتے ہوئے فرمايا : روايت ميں ہے كہ مسلمانوں كو اس بات كي كوشش كرني چاہئے كہ تمام امور ميں مستقل اور خود مختار ہوں ، اگر چہ مكمل طور پر خودمختاري حاصل كرنا ممكن نہيں ہے بلكہ سب ايك دوسرے كے محتاج ہيں ليكن جہاں تك ممكن ہو معاشرے كي بنيادي ضرورتوں خود كو پورا كيا جائے تاكہ وہ بنيادي ضروريات ميں ديگر ممالك كے كم سے كم محتاج ہوں ۔ اس طرح سے امام زمانہ(عج) كي خوشنودي بھي حاصل ہو گي اور اسلامي معاشرے كي عزت اور آبرو بھي محفوظ رہے گي ۔

آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے اپني گفتگو كے دوسرے حصے ميں علم و اخلاق كے رابطے كو بيان كرتے ہوئے فرمايا : ايمان ، اخلاق اور معنويات بشريت كے لئے فخر كا باعث ہيں اور انسان كي ساري ارزش يہ ہے كہ وہ معنوي اور روحاني امور ميں پيش قدم ہو ۔ ليكن يہ تمام مسائل ايك دوسرے سے مرتبط ہيں لہذا اگر كوئي اس بات كي كوشش كرے كہ اسلامي معاشرہ ترقي كرے اور خود مختاري بنے تو اس كا يہ عمل اجر و ثواب كا مستحق ہے ۔
آپ نے خدا كے بندوں كي خدمت كو ہر مسلمان كا فريضہ قرار ديتے ہوئے فرمايا : ان تمام مسائل ميں ضعيف اور ناتواں لوگوں پر خاص توجہ ركھني چاہئے تاكہ غريب اور محروم طبقہ فراموش نہ ہو اور مسلمان اپني وسعت بھر ان كي مدد كريں ۔
معظم لہ نے ايك روايت بيان كرتے ہوئے فرمايا : اس سے بڑھ كر كوئي عمل نہيں ہے ، ايك خداوند عالم پر ايمان اور دوسرے بندگان خدا كي مدد كرنا ، لہذا لوگوں تك بجلي پہنچانا بھي ايك قسم كي خدمت ہے اور شرعي لحاظ سے آپ كا يہ عمل خداوند عالم اور پيغمبر اكرم (ص) كے نزديك مطلوب و مقبول ہے ۔